Wednesday, October 20, 2010

بابری مسجد کیس

بابری مسجد کیس
قانونی بے انصافی کا حل قانونی چارہ جوئی

بابری مسجد متنازع اراضی کاطویل ترین 60 سالہ مقدمہ 30 ستمبر2010ء کو فیصل ہوگیا-اس فیصلے پر ”کھودا پہاڑ نکلی چوہیا“ کی مثل پورے طور پر صادق آرہی ہے- اس مقدمے کو فیصل کرنے کے لیے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنوبنچ نے تین ججز جسٹس دھرم ویر شرما، جسٹس صبغت اللہ خان اور جسٹس سدھیر اگروال کو مقرر کیا تھا- فیصلے کا خلاصہ یہ ہے کہ بابری مسجد کے وسطی گنبد کے مقام کو جس کے بارے میں متعینہ طور پر بھگوان رام کی جائے ولادت ہونے کا ہندو فریق کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا، وہ درست ہے، اس لیے وہاں پر جو رام کی مورتیاں رکھی گئی تھیں، وہیں رہیں گی، پوجا پاٹ بھی جاری رہے گا، البتہ بابری مسجد اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا- ایک حصہ ہندوں کو، دوسرا نرموہی اکھاڑا کو اور تیسرا مسلمانوں کو یا بلفظ دیگر دو حصے ہندوں کواور ایک حصہ مسلمانوں کو دے دیا جائے گا- اس مقدمے کے چار بنیادی سوالات تھے، جن کی تحقیقات ہونی تھی، وہ سوالات اور جج صاحبان کے جوابات حسب ذیل ہیں:
1- کیا بھگوان رام اس مقام پر پیدا ہوئے تھے؟
جسٹس شرما: ہاں! یہی وہ جگہ ہے جہاں وہ پیدا ہوئے تھے-
جسٹس اگروال: ہندوں کا عقیدہ و ایمان یہی ہے کہ رام یہاں پیدا ہوئے تھے-
جسٹس خان: ہندو ایک زمانے سے یہ مانتے رہے ہیں کہ بشمول متنازع زمین کے اجودھیا کے اس وسیع خطے میں کہیں نہ کہیں رام پیدا ہوئے تھے- البتہ 1949سے چند عشرے قبل سے ہندو یہ ماننے لگے کہ وسطی گنبد کی جگہ ہی اصل رام جنم بھومی ہے-
2- کیا متنازع عمارت ایک مسجد تھی؟ اگر ہاں تو اس کی تعمیر کس نے اور کب کی تھی؟
جسٹس شرما: یہ عمارت بابر کے ذریعے بنائی گئی تھی- یہ اسلامی تعلیمات کے برخلاف تعمیر ہوئی تھی- اس لیے مسجد نہیں تھی-
جسٹس اگروال: یہ ثابت نہیں ہوسکا ہے کہ عمارت بابر کے ذریعے بنائی گئی تھی یا اس کے عہد حکومت میں بنائی گئی تھی-ویسے مسلمان ہمیشہ اسے مسجد سمجھتے رہے اور اس میںنماز پڑھتے رہے-
جسٹس خان: یہ واضح نہیں ہے کہ اس کی تعمیرکب ہوئی تھی، البتہ یہ یا تو بابر کے ذریعے تعمیر ہوئی تھی یا اس کے حکم سے تعمیر ہوئی تھی اور یہ عمارت مسجد تھی-
3- کیا اس کی تعمیر کے لیے کسی ہندو مندر کو منہدم کیا گیا تھا؟
جسٹس شرما: اس کی تعمیر ایک پرانی عمارت کو منہدم کر کے ہوئی تھی، جس کے بارے میں آرکیلوجیکل سروے آف انڈیا نے یہ پروف کردیا ہے کہ وہ کوئی بڑی ہندو عمارت تھی-
جسٹس اگروال: اس کی تعمیر ایک غیراسلامی مذہبی عمارت، جو ایک ہندو مندر تھی، کو منہدم کرنے کے بعد ہوئی تھی-
جسٹس خان: یہ ہندو مندروں کے ملبے پر تعمیر ہوئی تھی، جو ملبے ایک زمانے سے وہاں پڑے ہوئے تھے- ملبے سے کچھ میٹریل دوران تعمیر استعمال بھی ہوئے تھے-
4 - مورتیاں کب رکھی گئیں؟
جسٹس شرما اور جسٹس اگروال: وسطی گنبد کے نیچے 22 اور 23 دسمبر 1949ء کی درمیانی شب میں رکھی گئی تھیں-
جسٹس خان: وسطی گنبد کے نیچے 23 دسمبر 1949ء کے ابتدائی گھنٹوں میں رکھی گئی تھیں-
ان بنیادوں پر جو فیصلہ صادر ہوا ہے، اس میں جسٹس سدھیر اگروال اور جسٹس صبغت اللہ خان ایک طرف ہیں اور جسٹس دھرم ویر شرما ایک طرف- جسٹس اگروال اور جسٹس خان کا اکثریتی فیصلہ یہ ہے کہ متنازع اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا- ایک حصہ رام للا کو، دوسرا نرموہی اکھاڑا کو اور تیسرا مسلمانوں کے حوالے کردیا جائے گا- اس تقسیم میں اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ وسطی گنبد کی جگہ جسے رام جنم بھومی تسلیم کیا گیا ہے، اسے ہندوں کے حوالے کردیا جائے- اسی طرح رام چبوترا، سیتا رسوئی اور بھنڈارے کی جگہ کو نرموہی اکھاڑا کے حوالے کردیا جائے گا- متنازع اراضی جو2.77 ایکڑ کو محیط ہے، اس کا مکمل ون تھرڈ حصہ مسلمانوں کو ضرور دیا جائے گا- حتمی تقسیم کے لیے متعلقہ فریقین تین مہینے کے اندر اپنی عرضی ہائی کورٹ میں داخل کریںگے-
جسٹس دھرم ویر کا فیصلہ ذرا مختلف ہے، وہ پوری زمین رام للا اور اس کے نمائندوں کے حوالے کرنے کو کہتے ہیں- ان کے مطابق ہندوں کے علاوہ دوسرے فریق ہمیشہ کے لیے اس زمین سے الگ ہوجائیں اور کوئی Interfareیا Objectionنہ کریں اور نہ ہی رام جنم بھومی مندر کی تعمیر میں کوئی رکاوٹ پیدا کریں-
فیصلہ بابری مسجد پر ایک نظر:-
 بابری مسجد پر جو فیصلہ آیا ہے، وہ کئی اعتبار سے محل نظر ہے- سب سے اہم تبصرہ جو اس پر کیا گیا، وہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ قانونی نہیں، پنچایتی ہے- گرام پنچایتوں میں اس وقت ایسا ہی فیصلہ آتا ہے جب مقدمے کا ایک فریق پنچایت کرنے والوں پر بھاری ہو اور دوسرا فریق کو ئی خستہ بے جان ہو- یہ فیصلہ مکمل طور پر یک طرفہ ہوا ہے- اس میں قانون کو نظرانداز کر کے ایک فریق کے آستھا کا احترام کیا گیا ہے، جب کہ دوسرے فریق کے جذبات کا بالکل ہی خیال نہیں رکھا گیا ہے- خصوصاً ایسی صورت میں جب کہ دوسرا فریق ہندوستانی جمہوریہ کے اقلیتی طبقے سے ہے اور صرف ہندوستانی عدلیہ اور سیکولر جمہوریہ پر اعتماد کے سہارے ہی اپنی زندگی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے، اس کے جذبات کا بالکل خیال نہ رکھنا اس کے اندر مہجوری اور بے اعتمادی کے احساسات جگاتا ہے- اس فیصلے نے جہاں تاریخ اور قانون کو نظرانداز کر کے مسلمانوں کے موقف کو کمزور کیا ہے، وہیں ان کی ہمت، ارادہ اور اعتماد کو بھی بری طرح ٹھیس پہنچایا ہے- وہ خود کو قانونی عدم تحفظ کا شکار محسوس کررہے ہیں-
اس فیصلے کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اگر آستھا کی بنیاد پر ہونے والے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا گیا تو یہ مستقبل میں ہندوستانی عدلیہ کے لیے ایک بری نظیر بن کر سامنے آئے گا اور قانون وانصاف کی بجائے آستھا پر فیصلے دینا اس نظیر کی بنیاد پر جائز ہوجائے گا- اس سے مستقبل میں کب کب اور کہاں کہاں انصاف کے خون کا جواز نکل آئے گا، اس کا صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے-
اس فیصلے میں وسطی گنبد کی جگہ کو متعینہ طور پر بھگوان رام کا جنم استھان تسلیم کرلیا گیا ہے، جب کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ رام کی انسانی شخصیت تاریخی طور پر تسلیم شدہ نہیں ہے- خود فیصلے کے اندر بھی رام کو ایک دیوتا کے طور پر پیش کیا گیا ہے، ایسی صورت میں کسی متعینہ مقام کو ان کا جنم استھان کہنا منطقی طور پر احمقانہ بات ہے- دوسری بات یہ ہے کہ اگر دیوتا کے لیے جنم استھان کو ماننا جائز بھی ٹھہرے تو اس متعینہ مقام کو رام جنم بھومی قرار دینا کھلے طور پر انصاف کا خون ہے، کیوںکہ ہندو روایت میں بھی اس متعینہ جگہ کو رام جنم بھوم نہیں کہا گیا ہے- 1949ء سے کچھ سالوں پہلے سے ہندوں نے محض عقیدت کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرنا شروع کیا اور ایک سو سال سے کم کی اس عقیدت کا احترام کرتے ہوئے اس دعوے کو تسلیم کرلیا گیا، جب کہ بہت ممکن ہے کہ آستھا کا یہ ڈھونگ شرپسند عناصر صرف مسجد کو منہدم کرنے یا اسے مندر میں تبدیل کرنے کے لیے رچے ہوں-
اس فیصلے کو بندر بانٹ فیصلہ کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا، فرق صرف یہ ہے کہ بندر بانٹ کی تمثیل میں دونوں فریق اپنے حصے سے محروم ہوجاتے ہیں، جب کہ اس تقسیم میں صرف ایک فریق محروم ہورہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو جی بہلانے کے لیے دو ججز نے ایک تہائی زمین دینے کا فیصلہ تو کیا ہے، مگر ایک جج دھرم ویر شرما نے پوری زمین ہندوں کے حوالے کردینے کی بات کہی ہے اور ویسے بھی مختلف ہندو قائدین نے مسلمانوں سے اپنے حصے سے دست بردار ہونے کا اخلاقی مطالبہ کرنا شروع کردیا ہے، دوسری طرف ہندو تنظیمیں قانونی طور پر مکمل ملکیت کے لیے سپریم کورٹ جانے کی بات کر رہی ہیں، خود مسلمان بھی تھک ہار کر یہی سوچنے پر مجبور ہوجائیںگے کہ جب مسجد کی جگہ رام مندر بن ہی جائے گا تو ایک تہائی زمین لے کر آخر ہم کیا بوئیںگے؟ اس لیے آج نہیں تو کل نام نہاد دانشوران ملت اس وسعت ظرفی کے لیے ضرور تیار ہوجائیںگے اور نتیجہ میں مسلمانوں کو صفر ملے گا-
آستھا کی بنیاد پر ہونے والایہ فیصلہ پوری دنیا کے سامنے ہندوستانی عدلیہ میں قانون کی زیر دستی کا اشتہار بن کر سامنے آیا ہے- اس سے ہندوستانی جمہوریہ کی سیکولر ساکھ بھی متاثر ہوگی اور دنیا کی سب سے بڑی اس جمہوریہ میں اقلیتوں کے حقوق کی پامالی بھی مشتہر ہوگی- اس جمہوریہ کی پیشانی سے گجرات میں حکومت کی زیر نگرانی اقلیتی فرقے کے قتل عام سے جو داغ لگا تھا، وہ ابھی دھل بھی نہ سکاتھا کہ آستھا کو بنیاد بنا کر اقلیتی فرقے کو اس کے حقوق سے محروم قرار دے کر اس پیشانی کو مزید بدنما بنادیا گیا- اس کے برخلاف اگر قانون کے مطابق فیصلہ آیا ہوتا تو اس سے گجرات سانحہ کے داغ کو بہت حد تک مٹایا جاسکتا تھا اور اس موقع پر مسلمانوں کے سینے پر جو زخم آیا تھا، بڑی حد تک اس کا مداوا بھی ہوجاتا، مگر یہ کیا کہ آستھا کے اس احترام نے تو ان کے زخم کو مزید کرید کر رکھ دیا اور ان کے اندر خوف، حرماں، مایوسی، قانونی عدم تحفظ، عدالتی بے انصافی اور اقلیت اور کمزور ہونے کے احساسات کو مزید جگادیا-اس فیصلے کا ایک منفی اثر یہ بھی ہے کہ اس نے متنازع زمین کو ہمیشہ کے لیے مقفل کرنے یا کسی اور صورت پر مصالحت کرنے کے امکان کو تقریباً ختم کردیا ہے- اس لیے کہ اس فیصلے سے جیسے ہندو فریق کے منہ میں خون لگ گیا ہے اور صلح کے بجائے قبضہ پر اس کا اصرار بڑھ گیا ہے-اس فیصلے کو بعض مبصرین سیاسی فیصلہ بھی کہہ رہے ہیں- ان کا اشارہ کانگریس کی اس میٹھی چھری کی طرف ہے، جس سے وہ ہمیشہ مسلمانوں کی قربانی کا نیک فریضہ انجام دیتی رہی ہے-
فیصلے پر رد عمل:
اس فیصلے کا ہندوستانیوں کو شدت سے انتظار تھا- آخری وقت تک عدلیہ کے انصاف اور ہندوستانی عوام کی طرف سے فساد کی توقع لگائی جاتی رہی، لیکن نتیجہ دونوں صورت میں خلاف توقع نکلا- عدلیہ نے اپنے سیکولر کردار کو مشکوک قرار دے دیا، جب کہ ہندوستانی عوام نے اپنے بالغ نظری، تعلیمی ذہن، پختہ شعور اور سنجیدہ مزاج کا ثبوت فراہم کردیا- اس ضمن میں سب سے قابل تعریف کردار ہندوستانی مسلمانوں کا رہا- ان کے خلاف فیصلہ آنے کے باوجود ان کی طرف سے پورے ملک میں کوئی ایک بھی خلاف قانون قدم نہ اٹھایا جانا، ان کی سنجیدگی، مثبت طرز عمل اور بالغ شہریت کا کھلا اشاریہ ہے- مسلمانوں کی طرف سے اس پر جو بیانات آئے وہ بھی بہت ہی مثبت اور درست تھے- تقریباً تمام مسلم تنظیموں، نمائندوں اور افراد نے متفقہ طور پر یہی بات کہی کہ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی جائے گی اور قانونی جنگ جاری رہے گی- اس ذیل میں استثناکے طور پر بعض ”دانشوران ملت“ کے بیانات ایسے آئے جو سیکولر اسٹیٹ کے کسی پختہ ذہن سے متوقع نہیں ہوسکتے- ان میں ایک معروف اسکالر مولانا وحیدالدین خان اور دوسرے معروف صحافی جناب عزیز برنی سرفہرست ہیں-فیصلہ آنے کے بعد ایک ٹیلی ویژن چینل کے نمائندے نے جب مولانا وحیدالدین خان سے یہ دریافت کیا کہ اسلامی قانون کے مطابق مسجد کی تعمیر کہاں ہونی چاہیے؟ اس پر خاں صاحب نے حسب توقع اپنا جواب مرحمت فرمایا: ”مسجد غصب کی ہوئی زمین پر نہیں بنائی جاسکتی- ویسے یہ معاملہ اتنا پیچیدہ ہوگیا ہے کہ اس کا فیصلہ اسلامی قانون سے نہیں دیاجاسکتا- یہ معاملہ حکومت کے حوالے کردینا چاہےے- حکومت ہی اس کا فیصلہ کرسکتی ہے-“ ظاہر ہے مولانا نے اپنے جواب میں سوال سے زیادہ اور غیرمتعلقہ باتوں کو شامل کرلیا- اس میں ایک طرف اس بات کا اشارہ اور اعتراف گناہ ناکردنی ہے کہ بابر نے زمین غصب کر کے مسجد کی تعمیر کی، جو بات اب تک کوئی ہندو نمائندہ بھی کہنے کی جرات نہیں کرسکا ہے، دوسری طرف اسلامی قانون سے بے وجہ دست برداری اور جدید حالات میں اس کی عدم نارسائی کی بات کی گئی ہے، جب کہ اسلامی شریعت میں تمام حالات کے لیے مسائل کاقابل انطباق حل موجود ہے،حتیٰ کہ اضطرار اور مجبوری کاحل بھی اسلامی شریعہ فراہم کرتی ہے- نہ اس ٹی وی نمائندے نے یہ سوال کیا تھا کہ اس مسئلے کا حل اسلامی شریعت میں کیا ہے؟ یا یہ کہ اسلامی شریعت سے اس مسئلے کا حل ممکن ہے یا نہیں؟ اس نے مسجد کی جائے تعمیر کے سلسلے میں ایک سادہ سوال کیا اور اس کی امید سے زیادہ حوصلہ افزا جواب عنایت فرما کر مولانا نے شاعر مشرق کے ان اشعار کی یاد تازہ کردی، جو دور غلامی میں مسلم ذہنیت کی تصویر کھینچتے ہیں:
از نگاہش دیدنی ہا در حجاب
قلب او بے ذوق و شوق انقلاب
سوز مشتاقی بکردارش کجا
نور آفاقی بگفتارش کجا
مذہب او تنگ چو آفاق او
از عشا تاریک تر اشراق او
زندگی بار گراں بر دوش او
مرگ او پروردہ آغوش او
1- اس کی نگاہ سے تمام حسین مناظر اوجھل ہیں اور اس کا دل ذوق انقلاب سے محروم ہے-
2-اس کے کردار سے اشتیاق و جستجو کی گرمی کہاں پیدا ہوسکتی ہے اور اس کی باتوں میں آفاقیت کا نور کہاں آسکتا ہے؟
3- اس کا مذہب اس کی سوچ کی طرح تنگ ہے اور اس کی صبح اس کی رات سے بھی زیادہ تاریک ہے-
4- زندگی اس کے کندھے پر ایک بھاری بوجھ ہے اور اس کی موت اسی کی آغوش کی پروردہ ہے-
فیصلے پر جناب عزیز برنی نے اپنے خلاف توقع اور استثنائی رد عمل کا اظہار روزنامہ راشٹریہ سہارا کے اپنے طویل کالم میں ۲اکتوبر ۰۱۰۲ءکو ”کیا ضروری ہے سپریم کورٹ جانا- ذرا غور کریں!“ کے عنوان سے لکھا ہے- موصوف اس فیصلے کو ”تاریخ ساز“ قرار دیتے ہوئے رقم طراز ہیں: ”میں اپنی اس تحریر کی معرفت اپنے قارئین کی خدمت میں جو عرض کرنا چاہتا ہوں، وہ بھی میرے لیے اتنا ہی مشکل فیصلہ ہے، جتنا کہ اس تاریخ ساز فیصلہ کو انجام دینے والے جسٹس ایس یو خان، جسٹس دھرم ویر شرما اور جسٹس سدھیر اگروال کے لیے مشکل رہا ہوگا-“
اس کے بعد جو بات انہوں نے کہی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ تاریخ ساز اس لیے ہے کہ اگر اس کے خلاف، آستھا کو رد کرتے ہوئے قانون کی روشنی میں فیصلہ آتا تو ہندوستان کا امن و اتحاد غارت ہوجاتا- اگر ہم اس فیصلہ کو تسلیم کرکے ہندو ¿ں کے ساتھ مندر تعمیر میں تعاون کرتے ہوئے ہم خود اپنی مسجد تعمیر کرتے ہیں تو اس سے ایک اچھا تاثر جائے گا نیز ایک جگہ مسجد اور مندر کا وجود ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی علامت کے طور پر سامنے آئے گا- برخلاف اس کے اگر ہم سپریم کورٹ جاتے ہیں تو ایک تو فیصلے کے ساتھ ہماری عدم رضامندی کا اظہار ہوگا- ثانیاً ہم اگلی نسل کو پھر اسی مسئلے میں الجھا دیںگے اور پھر ایک لمبی مدت کے بعد اگر فیصلہ ہمارے حق میں آتا بھی ہے تو اس کے بعد جو صورت حال پیدا ہوگی، اس سے نمٹنا آسان نہ ہوگا- خون خرابہ یقینی ہوگا- امن غارت ہوگا اور مسلمانوں کا خون بہے گا- نیز فیصلے کا نفاذ بھی مشکل ہوگا- دونوں فریق میں کشیدگی الگ بڑھتی رہے گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر فیصلہ وہاں سے بھی یہی آتا ہے یا اس سے بھی برا آتا ہے تو پھر ہم کہیں کے نہیں رہیںگے-




برنی صاحب نے جو کچھ کہا ہے، اس کے لیے ہم ان کی نیت پر شبہ نہیں کرسکتے- اپنی بات کو جن دلائل سے مستحکم کیا ہے، ان کی داد دیے بغیر بھی نہیں رہ سکتے، لیکن اس کے باوجود یہاں چند معروضات پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں، جو قابل نظرانداز نہیں ہیں-
1-برنی صاحب جو بات آج کہہ رہے ہیں یہ تو انہیں سالوں پہلے کہنی چاہیے تھی- اس لیے کہ قانون کے مطابق فیصلہ آنے کی صورت میں جن خدشات کا اظہار فیصلے کے بعد کیا ہے، ان کا اظہار پہلے ہونا چاہیے تھا تاکہ ان خدشات کے مطابق متوقع فیصلے کے ضرر سے مسلمانوں کو بچایا جانا ممکن ہوجاتا اور مسلمان سالہا سال تک اپنی انرجی لاس کرنے سے بچ جاتے- زمین فریق مخالف کے حوالے کردیتے اور خود پر امن زندگی گزارتے-
 سب کچھ لٹاکے ہوش میں آئے تو کیا کیے؟
2- موصوف فیصلے کو تسلیم کرنے کی صورت میں جن خوش گوار خیالی مناظر سے خود کو لطف اندوز کر رہے ہیں انہیں کون بتائے کہ اگر مسلمان ان کا مشورہ تسلیم کربھی لیتے ہیں جب بھی ان مناظر کی زیارت سے ان کی آنکھیں محروم ہی رہیںگی- برنی صاحب کی یہ تحریر ۲ اکتوبر کو چھپی ہے جسے یقینی طور پر انہوں نے یکم اکتوبر کو لکھا ہوگا، مگر حیرت ہے کہ ان جیسے وسیع نظر صحافی سے یکم اکتوبر کے اخبار جو ۰۳ستمبر کے فیصلے کے فوراً بعد چھپا ہے، کی پہلے صفحے کی یہ خبر کیسے اوجھل رہ گئی؟
Though the Hindu side claimed to have won, it declared its intention to go in appeal to the Supreme Court, arguing that since Ram Janamasthan hav been accepted, the entire desputed site at Ayodhya should be handed over for the construction of a temple. (Times of India, New Delhi)
گرچہ ہندو فریق نے فتح کا اعلان کردیا ہے، ساتھ ہی اس نے سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا اپنا عندیہ بھی ظاہر کردیا ہے تاکہ وہ یہ بات کہہ سکے کہ چوں کہ رام جنم استھان تسلیم کرلیا گیا ہے، اس لیے اجودھیا کی پوری متنازع زمین مندر تعمیر کے لیے حوالے کردینا چاہیے-“
خود برنی صاحب کے اخبار میں ان کے اس کالم کے ساتھ یہ خبر بھی چھپی ہے: ”اجودھیا کے مقدمہ میں ایک فریق ہندو مہاسبھا نے آج کہا کہ پوری متنازع زمین رام للا کی ہے اور یہاں مسجد کی تعمیر قابل قبول نہیں ہوسکتی ہندو مہاسبھا کو متنازع مقام کی تقسیم قبول نہیں ہے اور وہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گا-“
3- برنی صاحب نے قانونی فیصلے کی صورت میں جن خدشات کا اظہارکیا ہے، وہ ممکن ضرور ہیں یقینی نہیں- پھر قیام امن کے لیے مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے جو تیاریاں کی تھیں، وہ بڑی حد تک اطمینان بخش تھیں- پھر یہ حکومت کی اپنی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنی عدالت کے قانونی فیصلے کو قانونی طور پر نافذ کرے اور اس کے خلاف شرپسندوں کی سازش کو ناکام بنائے- فیصلہ کرنے میں یا اس کو نافذ کرنے میں مسلمان کہیں سے کہیں تک نہیں تھے کہ انہیں مورد الزام ٹھہرانا درست ہو-
4- سپریم کورٹ میں جانے کو صرف اس پہلو سے دیکھنا کہ اس سے عدالتی فیصلے سے عدم رضا مندی کا اظہار ہوتا ہے اور اگلی نسل کو اس مسئلے میں الجھانا ہے، یہ درست نہیں ہے- اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسلمان سیکولر ریاست میں اپنے قانونی حق کا استعمال جانتا بھی ہے اور کرتا بھی ہے اور ایسا کرنا اگلی نسل کو الجھانا نہیں ہے، بلکہ اسے انصاف کی لڑائی کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا ہے اور اس کے سامنے خود اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہونا ہے کہ اگلی نسل کہیں ہمیں بے وقوفی، جہالت اور بزدلی کا طعنہ نہ دے-
5- فیصلے کے بعد جو ہندوستانیوں کا رد عمل آیا وہ ان کے شعور کی پختگی اور ان کی سنجیدگی کا واضح اشاریہ ہے- آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی زبان سے بھی یہ الفاظ نکلے کہ ”اس فیصلے کو کوئی فتح و شکست کے طور پر نہ دیکھے اور نہ ہی کوئی ایسی بات کہے، جس سے دوسرے فریق کی دل آزاری ہو-“ یہ بات اس چیز کا واضح ثبوت ہے کہ ہندوستانی ذہن پہلے کی بہ نسبت زیادہ Mature، سنجیدہ اور حقیقت پسند ہوا ہے- اس لیے اگر مستقبل میں سپریم کورٹ سے قانون کی جیت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے ۶دسمبر کے دہرائے جانے کی توقع بہت ہی کم ہوگی- انتظام و انصرام کے حوالے سے حکومت کی حساسیت اس پر مزید ہے-
6- ہر کیس میں اور ہر عدالت میں فتح و شکست دونوں امکانات ہوتے ہیں- یہی دونوں امکان سپریم کورٹ میں جانے کی صورت میں بھی ہیں- لہٰذا اس امکان کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ نہ جانے کی وکالت انتہائی حد تک سادہ لوحی ہے- یوں تو ہر شخص کو یہ مشورہ دینا پڑے گا کہ کسی بھی معاملے میں اور کسی بھی صورت میں تم عدالت کا رخ نہ کرو کہ اس سے تمہارے فریق سے کشیدگی بڑھے گی پھر یہ کہ ممکن ہے کہ تمہارے حق میں فیصلہ نہ ہو- پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سپریم کورٹ سے بہرحال قانون کی جیت متوقع ہے، لہٰذا وہاں جانا قطعا حماقت نہیں ہے- یہ سوچ کر رک جانا حماقت ہے کہ اگر فیصلہ ہمارے حق میں نہیں آیا تو کیا ہوگا؟
7- برنی صاحب فیصلے کی دوسری صبح کے اپنے ہی اخبار کی یہ خبر بھی پڑھ لیں اور اپنی وسعت نظری کے تناظر میں کچھ اس کا حل بھی بتادیں:
وشو ہندو پریشد نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ کورٹ نے کروڑوں ہندوں کے عقیدے کا احترام کیا ہے اور یہ ہندوستانیوں کے لیے فخر کا موضوع ہے- آچاریہ گری راج کشور نے کہا ہے کہ مسلمان بھائیوں کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ ماضی کی باتیں بھول کر کاشی اور متھرا کا دعویٰ بھی چھوڑ دیں، جب کہ وی ایچ پی کے جنرل سکریٹری پروین توگڑیا نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ہندو سماج کو انصاف ملا ہے سنی وقف بورڈ کو ایک تہائی زمین دینے کے فیصلے پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے فیصلے کے اس حصے کا مطالعہ کیا جائے گا، اس کے بعد پھر کوئی فیصلہ کیا جائے گا-“
(روزنامہ راشٹریہ سہارا، دہلی، یکم اکتوبر 2010)
۸- اس فیصلے کو اگر مسلمان بہ آسانی تسلیم کرلیتے ہیں تو آستھا پر کیا جانے والا یہ فیصلہ ایک نظیر بن جائے گا اور اس کی وجہ سے مستقبل میں مسلمانوں کو بہت سے حقوق اور عمارتوں سے دست بردار ہوجانا پڑے گا- برنی صاحب اس پہلو کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ شری رام جنم بھومی ایک ہی ہوسکتی ہے- ہم دیگر مساجد کے لیے اس معاملہ کو نظیر کیوں سمجھیں- پھر بھی اگر خدشہ ہو تو اس سمت میں مناسب پیش رفت کریں-“
(روز نامہ راشٹریہ سہارا، 2 اکتوبر2010)
برنی صاحب کے حضور اپنی طرف سے کچھ نہ کہہ کر ان کے اخبار کی اسی اشاعت میں چھپنے والے سنتوش بھارتیہ کے مضمون کا یہ اقتباس نذر کرتے ہیں:”اس فیصلے نے ایسے سوال کھڑے کیے ہیں، جن کا حل نکلنا ضروری ہے، وگرنہ ملک میں ایک نئے فرقہ وارانہ دور کی شروعات ہوجائے گی- جماعتیں عقیدت کے نام پر مسجدوں، بودھ مٹھوں اور جینیوں کے مندروں کے خلاف عدالت میں جائیںگی اور الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو نظیر کی شکل میں استعمال کریںگی-“
زیر بحث فیصلے کی تین رکنی کمیٹی میں شامل جناب صبغت اللہ خان کاایک بیان ۲اکتوبر کے تقریباً تمام اخبارات نے چھاپا ہے، جس میں انہوں نے (اپنے) اس فیصلے کو صلح حدیبیہ سے تشبیہ دی ہے، جو صلح مسلمانوں کی طرف سے بظاہر دب کر ہوئی تھی اور دعوت اسلام کی وسیع اشاعت کا سبب اور بعد میں ظہور پذیر ہونے والی فتح مبین کا پیش خیمہ ثابت ہوئی تھی- جناب صبغت اللہ خان کے بقول یہ موقع ہے کہ مسلمان اپنی مظلومیت کو پیش کر کے دعوت اسلام کا زبردست کام کریں-
جسٹس صبغت اللہ خان نے مسلمانوں کے حضور اپنی صفائی کے لیے دراصل ایک درست واقعے سے ایک نادرست نتیجہ نکالنے کی غلطی کی ہے- اس واقعے کو صلح حدیبیہ کی نظیر اس لیے قرار نہیں دیاجاسکتا کہ صلح حدیبیہ سے جہاں دعوت اسلامی کی عام اشاعت اور مکة المکرمہ میں آمد و رفت کا آغاز ہو رہا تھا، وہیں مستقبل قریب میں پیش آنے والی فتح مبین کو نگاہ نبوت دیکھ رہی تھی- یہاں پر ایسا کوئی نیا امکان مسلمانوں کے لیے پیدا نہیں ہورہا ہے کہ اس فیصلے کو صلح حدیبیہ کی نظیر قرار دیا جائے، بلکہ اس کے برخلاف اس فیصلے کو نظیر بتا کر زندگی کا حصار ان کے گرد مزید تنگ سے تنگ کردیا جائے گا- آر ایس ایس، بجرنگ دل، وشوہندو پریشد اور اس طرح کی بی جے پی کی ذیلی شرپسند تنظیمیں ایک کیس کے بعد دوسرے کیس کے شور الرحیل بلند کرنے کے لیے ہمہ دم تیار ہیں- بس ایک صورت ہے کہ اس تناظر میں اس واقعے کو ایک حد تک صلح حدیبیہ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان تنظیموں کی شرپسندی سے نجات کی ضمانت کو یقینی بنادیا جائے، جس طرح صلح حدیبیہ کے بعد اہل مدینہ اہل مکہ کی شرپسندی سے محفوظ ہوگئے تھے، مگر کیا یہ ممکن ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے بعد ہر سال ایک مسجد ہندو ¿ں کے حوالے کر کے مسلمانوں کو ایک نئی صلح حدیبیہ کرنی پڑے؟ صلح حدیبیہ کا نام لینے والے اس پہلو پر بھی سوچیں!



فیصلے کے بعدآنے والے چند ممتاز سیکولر ہندوں کے بیانات کو یہاں نقل کرنا فائدے سے خالی نہیں ہوگا-
ملائم سنگھ یادو:- اس فیصلہ میں قانون اور ثبوت پر عقیدت کو ترجیح دی گئی ہے اور اس فیصلہ سے مسلمان خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم طبقہ اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ جائے گا جہاں ثبوتوں اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا، جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا-
رام ولاس پاسوان:- اجودھیا میں بابری مسجد-رام جنم بھومی زمین کے مالکانہ حقوق کے تعلق سے کورٹ کے فیصلے سے مسلمانوں کو مایوسی ہوئی ہے، بی جے پی، آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وی ایچ پی اسے اپنی جیت کے طور پر نہ دیکھیں- اس فیصلے سے مسلمانوں کو یقینا مایوسی ہوئی ہے، لیکن اسے وہ آخری فیصلہ نہ سمجھیں کیوں کہ فریق سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کی تیار کر رہی ہے-
پرشانت بھوشن(سینئر وکیل سپریم کورٹ):- سوال صرف عقیدے ہی کا نہیں ہے- یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے- اگر حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا کہ کس کو کتنی جگہ دینی ہے تو وہ یہ فیصلہ ضرور کرسکتی تھی، لیکن کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں ہے- یہ فیصلہ قانون کے نظریہ سے سپریم کورٹ میں نہیں ٹک سکتا- اگر عقیدے کی بنیاد پر فیصلے آنے لگے تو آگے چل کر ملک کے سیکولر تانے بانے کو بہت خطرہ لاحق ہوگا-
راجیو دھون(ماہر قانون):- یہ کچھ اس طرح کا فیصلہ ہے جیسا پنچایتیں سناتی ہیں-
مسلم قائدین اور بابری مسجد کیس کا مستقبل:-
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر تمام مکاتب فکر اور میدان زندگی سے وابستہ مسلم قائدین اور نمائندوں کا تقریباً متفقہ رد عمل یہ رہا کہ ہمیں انصاف کے لیے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دینی چاہیے- یہ مسلمانوں کی طرف سے ہونے والا نہایت قابل تعریف اور مثبت رد عمل تھا- بابری مسجد کیس میں بالخصوص اور دیگر مشترکہ مسائل میں بالعموم اگر مستقبل میں مسلمانوں کا یہی رویہ رہتا ہے، جس کی توقع بھی ہے، تو ہندوستانی مسلمان حکومت و عدالت کے سامنے اپنا وزن اور وقار قائم رکھنے میں یقینی طور پر کامیاب رہیںگے اور سپریم کورٹ سے بابری مسجد معاملے میں انصاف کی امیدیں بھی مضبوط ہوجائیںگی-
قانونی جد و جہد کو جمہوری سیکولر ریاستوں میں بنیادی حق کے بطور تسلیم کیا گیا ہے- مسلمانوں کو اس حق کے دانش مندانہ استعمال میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے- پوری دنیا میں مسلمان کہیں حجاب کے لیے تو کہیں اسلامی سینٹرز اور مساجد کی تعمیر کے لیے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہیں نہ تو کوئی بری نظر سے دیکھ رہا ہے اور نہ وہ احساس کمتری کا شکار ہیں- دنیا کی عظیم جمہوریہ ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی اپنے اس حق کے استعمال میں جی جان سے اور فہم و فراست سے لگ جانا چاہیے- قانونی چارہ جوئی کوئی دہشت گردی یا تشدد نہیں، بلکہ بالغ شہریت کی علامت ہے اور جب قانونی چارہ جوئی ہی کی بات ہے تو سپریم کورٹ ہی کیا، اگر اس کے بعد بھی کوئی قانونی آپشن اور امکان باقی رہے تو مسلمانوں کو اس کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے- اس چیز کو بہت لوگ منفی طور پر لیتے ہیں کہ اس طرح تو سارے مسلمانوں کو ایک مسئلے میں ایک طویل مدت تک الجھائے رکھنا ہوگا- ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ معاملات اور اصولوں کو مثبت طور پر دیکھنے کے عادی بنیں- یہ بات غلط ہے کہ اس میں سارے مسلمان الجھے رہیںگے- اس معاملے کو سنی وقف بورڈ اور مسلم پرسنل لابورڈ کے چند افراد دیکھیںگے، بلکہ وہ بھی ایک مشورہ کر کے معاملات کو وکلا کے حوالے کردیںگے جیسے دیگر قانونی مسائل میں ہوتا ہے- باقی ہندوستان کے تمام مسلمان اپنی اسی روز مرہ کی زندگی میں لگے رہیںگے- کسی کا کوئی کام معطل نہ ہوگا- یہ بہکاوے کی بات ہے کہ سارے مسلمان اس میں الجھے رہیںگے- اس سے مسلمانوں کی زندگی کا سفر رکے گا اور نہ ہی ان کے ارتقا کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوگی، پرابلم صرف منفی سوچنے والوں کے ذہن میں، ان کی خود ساختہ ہے-
ایسے افراد ذہنی طور پر احساس کمتری کا شکار ہیں- وہ خود کو بادشاہی دور سے محروم اور عہد غلامی میں محبوس محسوس کررہے ہیں- انہیں کون بتائے کہ آج کا مسلمان اگر ہندوستان کا بادشاہ نہیں ہے تو غلام بھی نہیں ہے- وہ سیکولر اسٹیٹ کا باشندہ ہے، جو من وجہٍ حکم راں اور شریک اقتدار ہے- سیکولر اسٹیٹ انہیں قانونی طور پر عدل و انصاف کی ضمانت دیتا ہے اور وہ پر امن جد و جہد اور احتجاج کے ذریعے انصاف اور حق پانے کے مجاز ہیں، اس میں دو رائے نہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ قانونی اور سیاسی سطح پر اب تک بہت سی ناانصافیاں ہوئی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ انصاف کی جنگ بند کردیں یا وہ خود سپردگی پر آمادہ ہوجائیں- خودسپردگی کبھی بھی حل نہیں ہے- جو لوگ صلح حدیبیہ کو یک طرفہ طور سے خودسپردگی کا نام دیتے ہیں،وہ معاملات کو صرف ایک پہلو سے دیکھنے کے عادی ہیں-
ہندوستانی مسلمانوں کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے ساتھ اب تک جو قانونی اور سیاسی ناانصافیاں ہوئی ہیں، ان میں اکثریتی فرقہ کے متعصبانہ برتاو ¿ کے علاوہ خود ان کے اندر معاملہ فہمی، اعلیٰ تعلیم، عزم و ارادہ، صحیح سمت میں کوشش، صحیح طرز فکر و عمل اور مخلصانہ جہد مسلسل کا فقدان بھی ایک بڑا سبب رہا ہے- جدید ہندوستان کے اکثریتی فرقے میں تعصب کم ہو رہا ہے، بہت سے ہندو مسلمانوں کو انصاف دینے کی باتیں کر رہے ہیں اور مسلمانوں کی نئی نسل اعلیٰ تعلیم کی تحصیل کے علاوہ سیکولر ریاست میں باوقار زندگی کے اسرار سے بھی واقف ہوگئی ہے- نئی نسل میں فکر و شعور اور عزم و ارادہ بھی بڑھا ہے- غلامانہ ذہنیت اور حاکمانہ غرور اس کے دماغ سے دور ہورہا ہے اور وہ آزادانہ اور منصفانہ غور و فکر کرنے لگی ہے، اس لیے حقوق کی بازیافت کے لیے قانونی چارہ جوئی وقت اور حالات کے عین مطابق ہے- حیرت ہے کہ ۲فیصد سکھ تو قانونی جنگ لڑ رہے ہیں، انہیں ان کا حق مل رہا ہے، وہ تعلیمی اور اقتصادی ترقیات سے بھی بہرہ ور ہو رہے ہیں اور۵۱ فیصد مسلمانوں پرخوف اور بزدلی ایسی طاری ہے کہ یا تو وہ قانونی جنگ سے بھاگنے کو تیار ہیں یا انہیں قانونی جنگ کا سلیقہ ہی نہیں معلوم- مسلمانوں کو یہ بات گرہ میں باندھ لینی چاہیے کہ سیکولر ریاست میں قانونی بے انصافی کا صرف ایک حل ہے اور وہ ہے قانونی چارہ جوئی- وہ جنگ نہ کریں، تشدد پر آمادہ نہ ہوں، لیکن پرامن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی جو سیکولر ریاست انہیں حق کے طور پر عطا کرتی ہے اس سے کبھی بھی دست بردار نہ ہوں- یہ ایک ساتھ بزدلی بھی ہے اور حماقت بھی-




Saturday, October 2, 2010

The Evils of Jadeed (modern) Kharijiat


Who are the Jadeed (modern) Khawarijs
How, when and where did they come into existence?
These are complex questions very difficult to answer. No doubt, the Khawarijs were a group during the caliphate vehemently opposed to the concept and practice of democracy.
Hazrat Ali (May Allah be pleased with him) suppressed the movement saving the Ummah from a brutal evil.
Jadeed (modern) Khawarijs are akin to their predecessors in many respects. They believe in violent protests, are intolerant towards people having different opinion and divided in various groups on conceptual basis, yet agreeing on certain issues such as Takfeer-e-Ali (May Allah be pleased with him) and Muawiah (May Allah be pleased with him). Jadeed (modern) Khawarijs are extremely religious-minded, and orthodox.
Abdul Kareem Shahrastani has described them as “the people about whom the prophet Hazrat Muhammad (Peace be upon him) had stated – you would feel yourselves inferior to them observing their prayers”. The followers of Jadeed (modern) Khawarijs are highly impressed by the ancient Khawarijs and follow the beliefs and policies of their predecessors.
I don’t say religion has nothing to do with politics and should not have any ties with politics. In democratic societies, the Muslims have differences with the  Jadeed (modern) Khawarijs on two grounds.
First, the democrats consider politics the part of religion, but Jadeed (modern) Khawarijs consider religion the part of politics, they may not accept it verbally.
Second, the democrats do not approve of “Deen” and “Ahl-e-Deen” acceptable along with politics and government; so they are performing the duty of sacrificing Muslims, defaming Islam for the sake of politics and government in the name of “Jihad” and “Ahqaq”.
The ancient Khawarij group was formed after the incident of “Tahkeem” in 37H. It has taken a new form in present time all over the world – that is called the “parliament”. In the Muslim or non-Muslim countries where democracy is being practiced, people elect the members of Parliament to represent their constituency and participate in the process of law-making. In Muslim countries, either there is kingship that is not preferred in Islam, or democracy. It is being practiced in many non-Muslims countries. It is better than imperialism in which an  individual’s opinion is not considered and is different from Islamic Shoorai system .
Now the question is: what should the Muslims do in absence of Islamic Shoorai system? Should they try to establish Islamic Shoorai system of rule in the Muslim countries or abstain from the democratic process. Practically, it is not possible to form a Shoorai cabinet in the present atmosphere of hostility and sectarianism where one sect pronounces all the others infidels (kafirs).
Even if supposedly, a Shoorai cabinet is anyhow formed, the members would be killed the next day by a differing faction. The sectarian conflict in Pakistan and Afghanistan is a perfect example. The ruling section starts bombing the mosques and graveyards just after coming to power. To avoid such a frustrating situation, the democratic system of electing the members of Parliament looks practical if not an ideal one.
The Muslim minority living in non-Muslim countries have some options to choose from.
(a)      They can accept the democratic system and try to elect the candidates favourable to them.
(b)      They can live in democracy without participating in the electoral process. But it will yield two unfavourable results:
First, the Parliament will be deprived of genuine members.                                                                                
Second, their patriotism will be called in question. Several facilities will be taken away and ultimately, they will be forced to either migrate or suffer in their own country.
(c)      They can revolt in non-Muslim countries like in India or Nepal, or in U.S or European countries and try to establish an Islamic government. But, it seems to be very impractical as such an attempt will be suicidal and counterproductive..
Shaikh Md Alauddin Nadvi, a teacher in Darul Uloom, Lucknow writes on this issue in the guest column of monthly “Allah ki Pukar” Delhi, in May 2009 edition:
“Should the fate of Islam be linked with secular democracy?  Will the Islamic spirit of Oneness not be affected?
Is this democratic system not a sign of slavery? The Prophets have been sent to rescue the Muslims from this humiliating slavery” (Page-7)
It is surprising that the expression of Islamic spirit in the light of “Kitab” and “Sunnah” or the decision of segregation from the mainstream politics in the prevalent system of democratic rule and boycott of elections are always considered suicidal attempts by Ummat-e-Muslimah. People think that Indian Muslims should support the democratic system of the governance that is in favour of Muslims and Islam, but the particular situations and the religious compulsions are never defined. The support for the philosophy of “Aahoonul Yalesheen” is taken but, “Aahoonul Mushrekeen” is practiced. For this reference, the Aayat-e-Kareemah is explained in such a way that denial of Quran-e-Kareem is apprehended. (Page 8)
The people who consider elections a religious and “Shoorai” duty will appear along with the losers and beside transgressors. The participation in elections and politics from Islamic point of view is purely a matter of faith on Oneness of Allah-e-Kareem; it is not a child’s play. (Page 9)
The detailed quotations have been given to prove that Jadeed (modern) Kharjiat is an undeniable reality. The reasons presented in the quotations are so weak that it can be denied and refuted by any ordinary Muslim. Its perfect similarity with ancient Kharjiat is being given below in short:
1. The ancient Khawarijs considered “Tahkeem” an act of transgression “Shirk” against Oneness of Allah-e-Kareem; similarly, modern Khawarijs consider “Parliament” against Oneness of Allah-e-Kareem.
2. According to ancient Khwarijs “Tahkeem” made human beings rulers in place of Allah-e-Kareem; modern Khawarijs too, possess the same opinion about the parliament. The reality in the matter of “Tahkeem” is different as it had happened to establish a compromise between Hazrat Ali (May Allah be pleased with him) and Hazrat Muawiah (May Allah be pleased with him) in the light of “Quran” and “Sunnah”. As there had to be someone to dictate the orders of Shariat, that is why two persons were nominated by the fighting factions. They were made responsible to deliver verdict according to the Islamic law. It was not the approval of the governance of someone against the rule of Allah-e-Kareem “Tahkeem-e-Tauheed”. The ancient Khawarijs considered it transgression “Shirk”. Likewise, all human beings including Muslims get religious freedom in modern day democracy. In regard of other matters of government, various representatives from all castes and regions of the country are elected in the parliament. The followers of a particular religion and their book cannot be authorized to solve all problems and matters. No religious group, majority or minority, will accept any common doctrine as the supreme authority. Democracy creates a middle path to solve this problem. If Muslims accept this system, their actions can be called “rebellion” and they are labelled “Mushriks” by the Khawarijs resulting in great destruction and disturbance.
3. The ancient Khawarijs used to dispose of the Caliph if he slightly deviated from the rules of Shariat. Likewise, modern Khawarijs too, seem eager to kill rulers throughout the world, at a time even Islamic scholars find it difficult to fully abide by the Shariat laws. They have to tolerate the vehement anger and the suicide attacks by the modern Khawarijs.
4. They used to consider all the people “Kafir” who did not follow Shariat laws; modern Khawarijs too, are following the same destructive path. Someone, Masood Ahmed of Jama’tul Muslemin has tried to prove in his book “Tark-e-Sunnah Gunah Hai” – that non-practice of Sunnat is a deviation and, therefore, a sin..
5. Hazrat Ali (May Allah be pleased with him) had argued on the logic of Khawarijs “ordains are from Allah-e-Kareem only” saying it is a poor explanation of a good reason. Similarly, modern Khawarijs too, talk about “Khilafat”, “Rule of Allah” and “Tauheed”. Ultimately they label the whole Ummat “Kafir” and intend to revolt against all the governments.
6. They considered “Sword” as the only solution against “transgressions” or “rebellions”. The prophet Hazrat Muhammad (Peace be upon him) has stated, “Demolish evil by hands; if unable, try to stop verbally, if unable to do even that – at least denounce it in your heart”. Practically, he (Peace be upon him) opposed it. Modern Khawarijs too, believe in the solution by killing and destruction, irrespective of favourable or unfavourable conditions and its results.
The Jadeed (modern) Khawarijs, spread throughout the world, have a large support among the educated, the uneducated, the college students and Mullahs. A common Muslim wants to achieve Islamic, educational and financial stability utilizing democratic facilities, and purify Muslims by Islamic reformation. The Kharjiat-minded people are creating problems for peace loving Muslims by conspiring to kill non-Muslims, attacking the rulers, opposing the administration and judiciary and boycotting elections. By their thoughts and actions, they are projecting Muslims and Islam as a destructive force.
It is mentioned about Khawarijs in “Kutub Tareekh” that  they used to kill anyone who did not approve of their opinion ,irrespective of whether he was a “Sahabi” or a general Muslim, a man or a woman. Their successors too, behave in the same manner. Various examples of their violent attitude can be cited from Karachi to Peshawar, Kabul to Mazare Shareef or Qandhar. They do not spare even mosques and tombs, scholars or Mullahs of opposite thought. Recent Islamic world needs a pious and powerful leader like “Sher-e-Khuda” Hazrat Ali (May Allah be pleased with him) to suppress the rising evil forces among Muslims. Modern Kharjiat has widespread presence and publicized due to the revolutionary rise of the electronic media making it difficult to stop its advance.. These people are very rigid, without any good sense to understand the sensible talk of Islamic scholars; they are creating an explosive atmosphere which can kill thousands of Muslims. Likewise, ancient Khawarijs had been the cause for killing of many Muslims at the time of Hazrat Ali (May Allah be pleased with him). Few Khawarijs, who had remained alive in Nahrawan War, kept causing disturbances till the Ummavi and Abbasi period. It has to be seen how long the Jadeed (modern) Khawarijs create differences among Ummat-e-Muslimah and spread.
Yet I am quite hopeful the way people are being attracted towards Islam and trying to resolve their issues through peaceful means. It will yield good results and strengthen the process of reforms opposing terrorism and extremism establishing good relations even with the non-Muslim countries and begin the end of modern Kharjiat.
An Arab writer Abdul Qadir Saleh has written, “The initiation of Khawarijs has taken place in the form of a group of “Qura” (Huffaz-e-Quran, Aebad wa Zohd). Before the advent of Islamic civilization,; the members of “Qura” were considered to be scholars of Ummat-e-Muslimah,having the knowledge of Fiqqah, Hadees, and culture. Due to low standards of their knowledge, they could not understand the political situation created by the differences between Hazrat Ali (May Allah be pleased with him) and Hazrat Muawiah (May Allah be pleased with him) and the nature of war between them”. (Al-Aqaed wa Al-Adyan, Page 124)
This comment on Khawarijs is quite convincing and exposes the very nature of modern Khawarijs also. These people too, are very religious and gentle like their predecessors. They are ever ready to kill or to be killed in the name of Quran-e-Kareem or Islam without understanding its content and the future consequences. In present time, they feel that Muslims have refuted Islamic governance and rule of Tauheed, so they are zealous to kill all the disobeying Muslims as well as non-Muslims.
As the Khilafat is a thing of the past, they think that Muslims have lost the status of “Tauheed” by living in the parliamentary system of democracy without anticipating the religious freedom and advantages Muslims and other minorities have been getting throughout the world. They fail to realize the benefits of democracy and remain always ready to fight to the extreme.
The sensible and intellectual academicians should realize their responsibility of educating the Muslims. Living in parliamentary system of democracy is not a refusal of Islam and Tauheed. In this system, we can fight against any mal-practice or ill-treatment against Islam by raising our voice in any part of the world.
No Muslim considers parliament equivalent to the rule of Shariat and binding.. It gives a chance to improve the standard of living and invent better chances of practicing all the tenets of Islam with full freedom.
It is surprising that  Shaikh Alauddin Nadvi, a teacher of Nadwatul Ulemah, is unable to realize that boycott of elections is similar to suicide and will be considered a revolt the state.
Is he ready for it? The Muslims’ patriotism is based on their predecessors’ sacrifice and achievements. So Muslims should not do anything which negates their achievements.
I am sorry to say Janab Khalid Hammadi, editor of Mujallah “Allah ki Pukar” is regularly publishing non-sensical and anti-Muslim articles having provoking opinion in his magazine. Perhaps, he too, considers participation in elections and voting for the representatives as “Shirk fil Hukm”. I want to ask the gentleman.
How is it justified and Islamic to accept the decisions of government and get a hefty amount as salary or grants if the acceptance of the Houses of Parliament is “Shirk fil Hukm”?
The Parliament is responsible and involved in all the matters related to education, holidays and traffic rules etc. if the honourable writer accepts it and follows; it is feasible in Islam. But if a common man votes for a leader to send a better representative in the parliament, he is guilty of “Shirk”.
The people with destructive mentality, should abstain from violence and destruction, otherwise they will have to face the music as the Ummat-e-Muslimah is now an enlightened lot.

For urdu verson of this article visit this link: